بلوچستان کے مسائل اور ان کا حل کیا ہے ؟
تحریر/تجزیہ: سید محمد شاہ غرشین
ہر ملک اور معاشرے کی بقا کا راز اس بات
میں مضمر ہوتا ہے کہ وہ اپنے مظلوموں کی آواز کس حد تک سنتا ہے اور ان کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے کس قدر خلوصِ نیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بلوچستان—جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا لیکن ترقی و وسعتِ قلب کے معاملے میں طویل عرصے سے ایک نادیدہ گوشہ بنا رہا—آج ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کی نئی سطریں لکھی جا سکتی ہیں۔
ہم نے بارہا اپنے قلم سے یہ حقیقت واضح کی تھی کہ طاقت کا استعمال، بندوق کی گونج اور جبری خاموشی کبھی کسی پائیدار امن کا پیش خیمہ نہیں بن سکتے۔ زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اگر ان پر مزید ضرب لگائی جائے تو درد ناسور بن جاتا ہے۔ بلوچستان کے پہاڑوں، صحراؤں اور ساحلوں کی سچی آواز ہمیشہ یہی رہی ہے کہ وہاں کے مسائل کا حل گولی میں نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے اور محرومیوں کا خاتمہ کرنے میں ہے۔
آج جب حکومت کی جانب سے "بلوچستان نیشنل ورکشاپ" کے ذریعے تمام مکاتبِ فکر، مقامی رہنماؤں، علمائے کرام اور عوام کو ایک چھت تلے جمع کر کے مشاورت کی راہ اپنائی گئی ہے، تو بلا شبہ یہ اندازِ فکر "دیر آید درست آید" کی مصداق ہے۔ یہ اعتراف کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، سونے، تانبے اور معدنیات پر پہلا اور بنیادی حق وہاں کی مٹی اور4 اس کے بچوں کا ہے، ایک انتہائی خوش آئند اور سراہنے کے قابل قدم ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ صرف اعداد و شمار یا سیاست کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ جیتی جاگتی انسانی زندگیوں اور ان کے جذبات کا معاملہ ہے۔ جب تک لسبیلہ سے لے کر چمن تک، اور مکران کے ساحل سے لے کر لورالائی اور کوئٹہ کی وادیوں تک کے ہر بچے کو معیارِ تعلیم نہیں ملے گا، جب تک ہسپتالوں میں ادویات، پینے کا صاف پانی، روزگار کے باوقار مواقع اور محفوظ سڑکیں میسر نہیں ہوں گی، تب تک احساسِ محرومی کی برف پگھل نہیں سکتی۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ان مشاورتی نشستوں کو صرف لفظی دعوؤں اور خبروں کی حد تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں عملی شکل دی جائے۔
مسائل کا پائیدار حل اور تجاویز
صادقانہ گفتگو اور مذاکرات: ناراض طبقات کے ساتھ بلا مشروط، وسیع البنیاد اور سنجیدہ مذاکرات ہی امن کی واحد ضمانت ہیں۔ طاقت کی حکمتِ عملی کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی انداز میں مسائل کو حل کیا جائے۔
وسائل کی منصفانہ تقسیم: ریکوڈک اور گواڈر جیسے عظیم الشان پروجیکٹس کا پہلا براہِ راست فائدہ مقامی آبادی تک پہنچنا چاہیے۔ وہاں کے نوجوانوں کو ٹیکنیکل تربیت دے کر انہی منصوبوں میں کلیدی عہدوں پر روزگار فراہم کیا جائے۔
بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی: صحت، پینے کا صاف پانی، معیاری سکول و کالج اور سڑکوں کا جال فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ کوئی بھی خطہ اس وقت تک ترقی یافتہ نہیں کہلا سکتا جب تک اس کا عام شہری زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لیے ترستا رہے۔
عوامی اعتماد کی بحالی: صوبے کے عوام، بالخصوص نوجوانوں میں ریاست کے ساتھ تعلق اور تحفظ کے احساس کو دوبارہ بیدار کرنا ہوگا، تاکہ غیر ملکی یا ملک دشمن عناصر ان کی محرومیوں کو اپنے شوم مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔
بلوچستان صرف معدنیات اور جغرافیائی اہمیت کا نام نہیں، بلوچستان انسانوں کا نام ہے—ان انسانوں کا جو عزت، محبت اور مساوی حقوق کے طالب ہیں۔ اگر آج ریاست نے تدبر، دردمندی اور انسانی جذبے سے کام لیتے ہوئے ڈائیلاگ اور ترقی کے اس راستے کو مضبوطی سے تھامے رکھا، تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب بلوچستان کے سرسبز و شاداب مستقبل سے پورا پاکستان روشن ہوگا
واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی بلوچستان پیکج کے نام پر کوشش ہوئی بہت سارے فراری کمانڈر تسلیم ہوئے عام معافی کا اعلان ہوا مگر مسئلہ حل نہیں ہوا میں سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں کے ذریعہ مسائل حل کی کوشش کی گئی شاید وہ مخلص نہیں تھے
یا یہ وجہ تھی کہ اس کوشش سے عوام اور ریاست کے درمیان جو نفرت تھی فاصلے تھے وہ کم نہ ہوسکے عام آدمی کا اعتماد بحال نہیں ہوا ناراض لوگ راضی نہ ہوئے اس وجہ سے مسئلہ حل نہیں ہوا تھا بلوچستان میں سب پہلے انصاف ہوتا نظر آئے
اور ترقی عوام تک پہنچنی چاہیے اور عام معافی کا اعلان کیا جائے و مسائل کا حل ہوتا نظر آئے معدنیات پر حق تسلیم کیا جائے جبری گمشدگیوں کو ختم کیا جائے
ماوراء عدالت قتل اور تفتیش کو بند کیا جائے
جو گناہگار ہے اسے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے
تب کچھ بہتری کی امید ہوسکتی ہے
"السادات نیوز پاکستان"
Www.alsadatnewspk.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں